سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی کی قیادت میں ایک وفد نے پلندری آزادکشمیر کا دورہ کیا اور مقامی ماہرین قانون اور ماہرین تعلیم کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق دورے کا اہتمام آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس سردار عبدالحمید خان نے کیا تھا جنہوں نے پروگرام کے انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ذاتی طور پر پلندری سے اسلام آباد کا سفر کیا۔وفد میں کشمیری اسکالر ڈاکٹر ولید رسول، کشمیر امریکن ویلفیئر ایسوسی ایشن (KAWA) کے بانی رکن سردار ذوالفقار روشن خان اور وائسز آف جسٹس ان کشمیر کے ڈائریکٹر سردار زبیر خان شامل تھے۔ انہوں نے کیڈٹ کالج پلندری، پلندری بار کونسل اور میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پلندری کیمپس سمیت متعدد فورمز سے خطاب کیا۔
انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جن میں محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، سیدہ آسیہ اندرابی اور خرم پرویز کی نظربندی شامل ہیں۔ انہوں نے بھارت کے نئے مسلط کردہ ڈومیسائل قانون اور ڈیموگرافک انجینئرنگ کے خلاف خبردار کیا جس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ کیڈٹ کالج پلندری کے پرنسپل ریٹائرڈ بریگیڈیئر واجد قیوم پراچہ نے وفد کو ادارے میں فراہم کی جا رہی سہولیات اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلباء کے لیے کوٹے کے بارے میں آگاہ کیا۔
پلندری بار کونسل کے صدر ایڈوکیٹ ظریف اسلم اور سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ ارسلان نثار نے تنازعہ کشمیر کے قانونی پہلوئوں اور اس کو اجاگر کرنے میں وکلاء کے تعمیری کردار پر گفتگو کی۔ پروفیسر منور ہاشمی، نمرہ مقصود اور نعمان صدیقی نے میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پلندری کیمپس میں سیشنز کی سہولت فراہم کی۔ جسٹس سردار عبدالحمید خان نے اپنی رہائش گاہ پر وفد کی میزبانی کی جس سے کشمیری عوام کی آواز کو زندہ رکھنے کے پختہ عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فائی نے مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جسٹس حمید کی مہمان نوازی اور قیادت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
