Input your search keywords and press Enter.

بھارتی حکومت کشمیریوں کی املاک کی ضبطگی کو نوآبادیاتی دور کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے مقبوضہ علاقے سے باہر مقیم کشمیری کارکنوں کی اراضی کو ضبط کرنے کے قابض انتظامیہ کے حالیہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اختلافی آوازوں کو خاموش کرانے کا نوآبادیاتی دور کا ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت املاک کی ضبطگی کو اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔انہوں نے بھارتی حکام کی طرف سے ڈاکٹر سید نذیر گیلانی، ارشاد احمد ملک اور راجہ مظفر خان کی املاک کی ضبطگی کیلئے جاری جانچ پڑتال کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے ارشد اقبال نے کہا کہ تینوں کشمیری رہنمائوں نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے اپنی آواز بلند کرنا اور تنازعہ کشمیر کے پائیدار حل کیلئے اپنی کوششیں ترک کر دیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کی املاک کی ضبطگی کا سلسلہ فوری ترک کرنے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔ ۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *