سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے بھارت کے مختلف علاقوں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے کشمیری طلباء اور شال فروشوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کنوینر ناصر کھوئی ہامی نے یہ معاملہ ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ کے میڈیا ایڈوائزر نریش چوہان کے ساتھ اٹھایا اور ان سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا، خاص طور پر ضلع کانگڑا کے علاقے ڈیرہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے میں جہاں ایک کشمیری شال فروش کو حملہ کر کے شدید زخمی کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ مسئلہ بھارتی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کے دفتر کے ساتھ بھی اٹھایا اور اسے کشمیری طلباء اور تاجروں کو بھارت میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ سے آگاہ کیا۔ راہول گاندھی کے دفتر نے جواب میں مکمل تعاون اور مداخلت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے لیے انصاف اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس معاملے کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ کشمیریوں پر بار بار حملے بھارت میں عدم برداشت میں خطرناک حد تک اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ تنظیم نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور بھارت میں کشمیریوں کے تحفظ اور احترام کو یقینی بنائیں۔
جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا بھارت میں کشمیری شال فروشوں پر بڑھتے ہوئے حملوں پر اظہار تشویش
