Input your search keywords and press Enter.

بھارتی سپریم کورٹ نے شبیر شاہ کی درخواست ضمانت کی مخالفت میں این آئی اے کے دلائل ناقص قرار دیدیے

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارتی سپریم کورٹ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کی ایک پرانے جھوٹے مقدمے میں درخواست ضمانت کی مخالفت میں بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے) کے دلائل کو ناقص قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر شاہ کو بھارتی تحقیقاتی ادارے ”انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ“ نے جولائی 2017ء میں جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا تھا اور وہ گزشتہ 8 برس سے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ انہیں این آئی اے نے 4 جون 2019ء کو مذکورہ مقدمے میں دوبارہ گرفتار کیا۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے وکیل سدھار رتھ لوتھرا نے جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا پر مشتمل سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ کو بتایا کہ شبیر احمد شاہ کے خلاف ان کی اشتعال انگیز ویڈیوز اور مجرمانہ ای میلز پر مشتمل مواد موجود ہیں جن میں سے کچھ ویڈیوز 1990ء کی دہائی کی ہیں۔ اس پر بنچ نے کہا یہ وہ ویڈیوز ہیں جو آج 30 یا 35 سال پہلے موجود تھیں، آپ نے اب یہ ویڈیوز دریافت کر لیں ہیں اور انہیں اشتعال انگیز قرار دے رہے ہیں۔ بعد ازاں بنچ نے کیس کی سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی۔ اگلی سماعت پر شبیر احمد شاہ کے وکیل کولن گونسالویس اپنے جوابی دلائل دیں گے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *