سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کے وعدے پر عمل درآمد سے ظاہر ہو گا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں جمہوریت، وقار اور ترقی کے لیے کتنی پرعزم ہے۔ ذرائع کے مطابق نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ریاست کا درجہ محض ایک آئینی انتظام نہیں ہے بلکہ کشمیری عوام کو ان کے منتخب نمائندوں کے ذریعے بااختیار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی سے انتظامی کارکردگی اور پالیسی ردعمل میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بااختیار مقننہ اور منتخب حکومت خطے کے مخصوص خدشات بشمول ڈھانچہ جاتی ترقی، روزگار کی فراہمی، صنعتی ترقی، سیاحت، باغبانی اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر طریقے سے تیار ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بے پناہ مواقع اور وسائل موجود ہیں جن سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاستی حیثیت کی بروقت بحالی خطے میں امن، استحکام اور جامع ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے ظاہر ہو گا بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی ترقی کے لیے کتنی پرعزم ہے، ساگر
