سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ آزاد جموں کشمیر کے سابق صدر مسعود احمد خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل نئی دہلی اور تل ابیب کے درمیان پہلے سے موجود اسٹریٹجک فریم ورک کو مضبوط کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسعود خان نے نجی ٹیلی ویژن کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ بھارت اور اسرائیل محض دو طرفہ شراکت دار نہیں ہیں بلکہ وسیع تر اسٹریٹجک تشکیل کے تحت کام کرتے ہیں، جس میں I2U2 گروپنگ اور دیگر مغربی اتحاد والے فریم ورک شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران ہونے والی بات چیت ایک خصوصی تزویراتی معاہدے پر دستخط کی طرف اشارہ کرتی ہے جو امریکہ اور جرمنی جیسے ممالک کے ساتھ اسرائیل کے معاہدوں کے مقابلے ہیں دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی بنائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتا کہ سابقہ محاذ آرائیوں میں، بھارت نے پاکستان کے خلاف اسرائیلی ساختہ آلات خاص طور پر ڈروان استعمال کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گو کہ ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان نے اپنی ڈیٹرنس صلاحیتوں کو مضبوط کر کے اور اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو وسعت دے کر اپنے دفاع کو انتہائی مضبوط بنایا ہے تاہم چوکسی ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ وزیراعظم مودی کی تل ابیب میں مصروفیت اسرائیل کے بعض پالیسی حلقوں میں پاکستان کے بارے میں منفی تاثرات کو تقویت دے سکتی ہے اور ممکنہ طور پر بھارت اور اسرائیل کے درمیان گہرے انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔ مسعود احمد خان نے امریکہ، چین، ترکی کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات اور ریاض کے ساتھ طے پانے والے سٹریٹیجک ملٹری ڈیفنس ایگریمنٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے منظر نامے کا بھی تجزیہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی سطح پر تبدیلیاں جاری ہیں اور پاکستان کو متوازن سفارت کاری پر عمل جاری رکھتے ہوئے اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔
