سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے لداخ کی ریاستی حیثیت اور چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبات کو پورا کرنے کیلئے کھلے ذہن اور سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چھ ماہ کی غیر قانونی نظربندی کے بعد 14مارچ کو رہائی کے بعد سونم وانگچک نے زور دیا کہ لداخ کے عوام کے جائز مطالبات آئینی حقوق پر مبنی ہیں۔ انہوں نے مودی حکومت پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے ۔
ادھر مقبوضہ جموں و کشمیر کے محکمہ صحت کے ملازمین نے وزیر صحت سکینہ ایتو کی طرف سے ان کے مطالبات پر توجہ دینے کی یقین دہانی کے بعد تین ہفتوں کے لیے اپنی ہڑتال معطل کر دی ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں میں صحت کی خدمات بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔
