Input your search keywords and press Enter.

ترقی کے بلندو بانگ دعوے: طلباءاسکول جانے کے لئے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ایک طرف مودی حکومت ترقی اور امن کے بلندوبانگ دعوے کررہی ہے اوردوسری طرف ضلع شوپیاں میں پل نہ ہونے کی وجہ سے طلباءاسکول جا تے ہوئے رمبی آڑہ دریا کوعبورکرنے کے لئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔

میڈیا سروسز کے مطابق دیو پورہ، ناگہ بل ،دیگام اوردیگر دیہات کے بچے اپنے اسکولوں تک پہنچنے کے لیے لکڑی کے پھٹوں پر دریا عبور کرتے ہیں۔مقامی لوگ اس عارضی پل کو غیر محفوظ اور خطرناک قرار دیتے ہیں، خاص طور پر جب بارش یا برف پگھلنے کے بعد دریا میںاچانک پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ ایک مقامی شخص محمد شفیع نے گہرے پانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ کچھ دن پہلے ہماری بروقت مداخلت سے سکول کے دو بچے ڈوبنے سے بچ گئے ۔ ایک اور مقامی شخص عبدالحمید نے بتایاکہ بچوں کے پیر پھسلنے اوردریامیں بہہ جانے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ برسوں کی اپیلوں کے باوجود حکام ایک پل بنانے میں بھی ناکام رہے ۔ انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ جب تک ایک مناسب پل تعمیر نہیں کیاجاتا، حکام کم از کم ایک عارضی پل تعمیر کریں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام سے کئی برسوں سے پل کی تعمیر کا مطالبہ کیاجارہا ہے کیونکہ ہمارے بچوں کی زندگیاں ہروقت خطرے میں رہتی ہیں جبکہ ان کی تعلیم بھی متاثر ہورہی ہے۔ یہ صورتحال اگست 2019 کے بعد علاقے میں ترقی اورخوشحالی کے بھارتی حکومت کے بلندوبانگ دعوے کی قلعی کھول دیتی ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میںترقی اسکولوں اورپلوں میں نہیں بلکہ صرف فوجی کیمپوں میں دکھائی دیتی ہے جبکہ ہمارے بچے ہروقت خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *