Input your search keywords and press Enter.

این آئی اے سیاسی آوازوں کو خاموش کرانے کیلئے حریت رہنمائوں کی غیر قانونی نظربندی کو طول دے رہی ہے

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی عدالت کی طرف سے تین دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں پارٹی چیئرمین شبیر احمد شاہ کے ریمانڈ میں مزید 10دن کی توسیع پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میڈیاسورسز کے مطابق ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈوکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں ایک بیان میں شبیر شاہ کے ریمانڈ میں توسیع کو سراسر ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شبیر شاہ پہلے ہی این آئی اے کے ایک جھوٹے اور من گھڑت کیس میں 8سال تہاڑ جیل میں گزار چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے عدالت میں شبیر شاہ کے خلاف کوئی ثبوت فراہم کرنے میں ناکامی کے بعد جائز سیاسی آوازوں کو جبراخاموش کرانے کے لیے انکی غیر قانونی نظربندی کو طول دے رہی ہے ۔ارشداقبال نے کہا کہ این آئی اے عدالت کی تازہ ہدایات بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے جس نے شبیر شاہ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیاہے ۔ انہوں نے شوپیاں اور دیگر علاقوں میں مذہبی اداروں کی بندش کی مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے تعلیمی اور مذہبی حقوق پر حملہ قرار دیا۔انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیا کہ وہ بھارتی قابض حکام کی طرف سے کشمیریوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

ادھر نیشنل کانفرنس کے رہنما آغا روح اللہ نے جامعہ سراج العلوم پر کالے قانون یو اے پی اے کے تحت پابندی پرکڑی تنقید کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 800سے زائد طلبا پر مشتمل جموںوکشمیر بورڈ سے وابستہ اسکول نے پسماندہ گھروں کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر کے انہیں ڈاکٹرز، اسکالرز اور پیشہ ور افرادبنایا ہے اور اس ادارے کو ڈویژنل کمشنر کے حکم پر سیل کردیا گیا ہے۔روح اللہ مہدی نے کہاکہ ٹرسٹ، مساجد، لائبریریاں، اور اب پسماندہ بچوں کی خدمت کرنے والے مدارس ہر سماجی اور غیر سرکاری ادارہ جو کشمیریوں کی خدمات کرتا ہے کا گلا گھونٹ دیا جا رہا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *