Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خوف و دہشت، معاشی دباﺅ کے باعث شرح پیدائش میں کمی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں شرح پیدائش تیزی سے گر رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل چھاپوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والا خوف ودہشت کا ماحول اور غیر یقینی صورتحال شرح پیدائش میں کمیکی بنیادی وجوہات ہیں۔

میڈیا سورسز کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیرمیں شرح پیدائش 2.1 سے کم ہوکر تقریباً 1.4 بچے فی خاتون رہ گئی ہے۔شہری علاقوں میں یہ شرح 1.2 تک کم ہوگئی ہے۔ حنیفہ نرسنگ کالج اور حکیم ثناءاللہ سپیشلسٹ ہسپتال کے زیر اہتمام سوپور میں ایک پینل ڈسکشن میں کہا گیا کہ شادیوں میں تاخیر، معاشی عدم تحفظ، نوجوانوں کی بے روزگاری اور سماجی دباو اہم عوامل میںشامل ہیں۔ڈاکٹر فرحت جبین اور ڈاکٹر قیصر احمد سمیت ماہرین نے کہا کہ خواتین تاخیر سے شادی کر رہی ہیں جس سے، تولیدی امکانات کم ہورہے ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ مالی عدم تحفظ اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ مسلسل چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والی خوف کی فضا خاندانی منصوبہ بندی کے فیصلوں کو متاثر کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی تعلیم اور طلاق کی شرح بھی خواتین کو شادی سے پہلے مالی آزادی حاصل کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ مباحثے میں کہا گیا کہ زیادہ تر جوڑے بچوں کی پرورش کے اخراجات اور گھروں میں خاندانی تعاون کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایک ہی بچے پر اکتفاکرتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا کہ اس رجحان سے مستقبل کی افرادی قوت اورصحت کی دیکھ بھال کے پہلے سے کمزور نظام پر پر دباو پڑے گا اوربڑھاپےمیں دوسروں پرانحصار کا تناسب بڑھے گا۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *