سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سرینگر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے علاقے کی ریاستی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے لیے متحدہ جدوجہد پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دکھاوے اور نمائش کے لئے نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور اعتبار کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق آغا روح اللہ نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ لوگوں کی طرف سے سیاسی قیادت کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے اور کسی بھی بامعنی تحریک کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقل مزاجی کے بغیر سیاسی اقدامات محض دکھاوا ہون گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن کہیں بیٹھ کر لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش نہ کریں۔ ایک روڈ میپ بنائیں، پورے کشمیر میں جائیں اور ایک تحریک شروع کریں۔ روح اللہ مہدی نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی سیاسی قیادت کو سیکھنا چاہیے کہ حقوق کے لیے متحد ہو کر کیسے لڑا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خلوص موجود ہے تو تمام سیاسی جماعتیں اپنی الگ الگ شناخت معطل کر کے 2019ء میں چھینے گئے حقوق کی بحالی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں اور آئینی حقوق کی بحالی تک جمہوری اور پرامن تحریک جاری رہنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مشترکہ تحریک کا پلیٹ فارم بنایا گیا تو وہ بھارتی پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے والا پہلا شخص ہوں گا۔ جب تک ہمارے حقوق بحال نہیں ہو جاتے، پارٹی کے پلیٹ فارم کی بجائے عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے نمائندے منتخب کیے جائیں۔ انہوں نے کہا اگر جماعتیں سنجیدہ ہیں، تو انہیں انتخابی سیاست کو ایک طرف رکھنا چاہیے اور تحریک پر پوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ لوگ اس قسم کی کوششوں پر تب ہی بھروسہ کریں گے جب وہ اخلاص اور مستقل مزاجی دیکھیں گے۔ یاد رہے نیشنل کانفرنس نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ بھارتی پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی میں احتجاج کرے گی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کے لیے دبائو ڈالا جائے گا۔ یہ فیصلہ سرینگر کے داچھی گام نیشنل پارک میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا۔
