سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (باغ) : کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ اور کشمیری مہاجرین کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد نے حریت رہنما مشتاق احمد بٹ کی قیادت میں ڈپٹی کمشنر باغ سید ممتاز حسین کاظمی سے ملاقات کی۔
ملاقات میں 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کے موقع پر منعقد ہونے والے احتجاجی پروگرام کے انتظامات اور باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر سید ممتاز حسین کاظمی نے وفد کو احتجاجی پروگرام کے انتظامات کے بارے میں بریفنگ دی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے یومِ سیاہ کشمیر کی اہمیت اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر مشتاق احمد بٹ اور دیگر مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کشمیری عوام کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، جب بھارتی فوج سری نگر میں داخل ہوئی تھی۔
مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ کشمیری عوام کی آواز دبانے یا ان کی سیاسی امنگوں کو نظر انداز کرنے سے مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ کشمیریوں کو اس تنازعے کا بنیادی فریق تسلیم کیا جائے اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ان کی آزادانہ مرضی اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کیا جائے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سید ممتاز حسین کاظمی نے اقوامِ متحدہ، اسلامی ممالک اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کریں اور تنازعۂ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے کوششیں تیز کریں۔
وفد میں حریت رہنما سید مشتاق حسین، سید گلشن، محمد لطیف لون، ارشاد احمد بٹ، چوہدری اقبال حمید، محمد شفیع کشمیری، نذیر چوہان، اکسیر احمد اعوان، عبدالرحمن بٹ، چوہدری غلام محمد، ظہیر نائیک، امتیاز شاہ، منیر حسین شاہ اور دیگر رہنما شامل تھے۔
دریں اثنا، یومِ سیاہ کے سلسلے میں وفد نے مانگ باجڑی کیمپ کی جامع مسجد میں بزرگ مہاجرین اور نوجوانوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال، کشمیری عوام کی جاری جدوجہدِ آزادی، بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
