سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (اسلام آباد) :کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ نے کہاہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے جموں میں 1947 میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام کشمیر کی تاریخ کا بدترین اور ہولناک واقعہ تھا۔
ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے قائم مقام صدر محمود احمد ساغر نے اسلام آبادمیں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈوگرہ مہاراجہ کی سرپرستی میں ہندو انتہا پسندوں نے بدنیتی پر مبنی منصوبے کے تحت جموں کی مسلم آبادی کی نسل کشی کی ۔ اس منصوبے کا مقصد علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا تھا۔
انہوں نے اس سانحہ کو نسل کشی کی بدترین مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 27اکتوبر سے 6نومبر 1947 کے دوران ہندوانتہا پسندوں کی قیادت میں مسلح جتھوں نے جموں میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل عام کیا جبکہ پانچ لاکھ مسلمان اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جموں میں مسلمان آبادی کا 60 فیصد سے زائد تھے۔ تاہم، دو لاکھ سے زائد مسلمانوں کے قتل کے بعد انہیں اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی کئی دہائیوں پرانی خصوصی حیثیت ختم کرنا اور دفعہ 370اور35Aجکی منسوخی بھی اسی مذموم منصوبے کا حصہ تھا،جس کا مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔
محمود احمد ساغر نے عالمی برادری پرزوردیا کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کا فوری نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی فورسز بالخصوص نوجوانوں کو بے رحمی سے قتل کر رہی ہیں۔
دریں اثنا، کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے رہنمائوں شمیم شال، حسن البنا، شیخ عبدالمتین، الطاف احمد بٹ اور دیگر نے اپنے بیانات میں شہدائے جموں کو خراجِ عقیدت پیش کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
حریت رہنماں نے کہا کہ شہدائے جموں نے ایک مقدس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی بے مثال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ان کے مشن کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنا ہے۔
