سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کی مسلسل گھر میںنظر بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نقل و حرکت اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہیں۔
ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق گزشتہ ایک ہفتے سے گھر میں نظر بند ہیں۔ 30 اکتوبر 2026ءکو جامع مسجد سرینگرمیں ان کے خطاب کے بعد ان کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی تھی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اپنی رہائش گاہ تک محدود ہیں اور اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے سے قاصر ہیں، جن میں نماز جمعہ کے موقع پر جامع مسجد میں خطبہ دینا اورمختلف تقریبات میں شرکت شامل ہے۔
ڈی ایف پی کے ترجمان نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں اور سیاسی رہنماو¿ں کی حالت زار پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جو بھارتی جیلوں میں سخت اور غیر انسانی حالات میں قید ہیں اور اکثر بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ممتاز کشمیری حریت رہنما اور کارکن جن میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر حمید فیاض، بلال صدیقی، مشتاق الاسلام، نعیم احمد خان اور ظفر اکبر بٹ شامل ہیں، مختلف بھارتی جیلوں میں طویل عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
ارشد اقبال نے نظر بند سیاسی اور مزاحمتی رہنماو¿ں کے گھروں پر چھاپوں، ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے اور ان کی جائیدادوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے متعلقہ خاندانوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مقبوضہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں بالخصوص ایمنسٹی انٹرنیشنل اوربین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) پر زور دیا کہ وہ کشمیری سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا سنجیدہ نوٹس لیں، بھارتی جیلوں تک رسائی حاصل کریں اوران کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے عالمی برادری کو آگاہ کریں۔
ڈی ایف پی کے ترجمان نے کہا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری سیاسی قیدیوں کے حقوق، صحت، تحفظ اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔
انہوں نے اقوام متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش ناک صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں کہ کشمیری عوام کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سمیت ان کے بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں۔
