تحریر: خواجہ کبیر احمد
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ راولاکوٹ یا پونچھ ڈویژن کو عوامی حقوق تحریک میں تنہا دکھانے کی کوشش دراصل ایک حکومتی اور ادارہ جاتی بیانیہ ہے، جس کا مقصد ریاستی اکائی گیر عوامی تحریک کو ایک مخصوص شہر یا ڈویژن تک محدود دکھانا اور ماضی کی طرح ہی ایک مرتبہ پھر متحد عوام کے درمیان علاقائی تقسیم پیدا کرنا ہے۔ یوں بعض لوگ ناسمجھی میں اسی بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں اور اسے حقیقت سمجھ کر لکھ اور بول رہے ہیں۔ انہیں اس پروپیگنڈے کے حصار سے باہر نکل کر زمینی صورتِ حال کا مشاہدہ کرنا اور حقائق کو سمجھنا چاہیے۔
سب سے پہلے یہ بنیادی حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ راولاکوٹ میں موجود عوامی اجتماع کوئی ایسا دھرنا نہیں جس کا مقصد صرف راولاکوٹ یا پونچھ تک محدود رہنا ہو۔ یہ دراصل مظفرآباد کی طرف روانہ ہونے والے عوامی مارچ کا پڑاؤ ہے، جس نے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب روانہ ہونا تھا۔ لیکن اس سے قبل 5 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران کو پاکستانی فورسز کی طرف سے نشانہ بنایا گیا، ایک کور ممبر عمر نذیر کشمیری زخمی ہوئے اور ان کے ایک ساتھی شازیب حبیب شہید کر دیے گئے۔ اس واقعے کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے باعث مارچ کا سفر رک گیا اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ میں اپنا پڑاؤ جاری رکھا۔ اس دوران ایک سو سےزیادہ تحریکی کارکنان کے سینوں کو پاکستانی فورسز نے جنگی اسلحہ استعمال کرتے ہوۓ چھلنی کیا ۔ یہ پڑاؤ مارچ کے اگلے مرحلے تک جاری ہے اور مارچ کسی بھی وقت مظفرآباد کی جانب بڑھ سکتا ہے۔
لہٰذا راولاکوٹ میں موجود اجتماع کو صرف مقامی دھرنا قرار دینا یا اسے پونچھ ڈویژن تک محدود سمجھنا بنیادی حقائق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابتدا ہی سے میرپور اور پونچھ ڈویژن کے لوگ وہاں موجود ہیں، جبکہ مظفرآباد ڈویژن کی بھی مسلسل نمائندگی موجود رہی ہے۔ تینوں ڈویژنوں کے عوام کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ یہ جدوجہد پوری ریاستی اکائی کے عوام کی مشترکہ جدوجہد ہے۔
ریاست کے جغرافیے کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ راولاکوٹ کسی جزیرے پر واقع نہیں اور نہ ہی پونچھ ڈویژن باقی ریاست سے کٹا ہوا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام ریاستی اکائی کے تینوں ڈویژن، مظفرآباد، پونچھ اور میرپور، اور ان کے تمام اضلاع عوامی حقوق کے اسی مشترکہ سوال سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور پونچھ اس وقت مرکز ہے
وادی نیلم کے اٹھمقام، شاردہ، کیل اور تاؤبٹ؛ جہلم ویلی کے چکوٹھی اور لیپہ؛ مظفرآباد کے سرحدی علاقے؛ حویلی کے فارورڈ کہوٹہ؛ پونچھ کے ہجیرہ، عباس پور اور تیتری نوٹ؛ سدھنوتی کے پلندری اور تراڑکھل؛ باغ کے دھیرکوٹ اور دیگر علاقے؛ میرپور اور ڈڈیال؛ کوٹلی کے نکیال، کھوئی رٹہ اور چڑھوئی؛ جبکہ بھمبر کے سماہنی اور برنالہ جیسے علاقے پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے جغرافیے اور اجتماعی شناخت کا حصہ ہیں۔ ان علاقوں کے لوگوں کے مسائل، حقوق اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔وہاں بسنے والے لوگوں کے مسائل، قربانیاں اور حقوق بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے راولاکوٹ، مظفرآباد یا میرپور کے لوگوں کے۔
( یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے کہ اس اکائی کے سرحدی علاقے پوری ریاست جموں کشمیر کے آخری کنارے نہیں بلکہ ریاست کی جغرافیائی وحدت کے اہم حصے ہیں۔ چونکہ پوری ریاست جموں کشمیر کی جغرافیائی وحدت کو سمجھنے کے لیے اس کے ان علاقوں کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے جو آج مختلف انتظامی کنٹرول میں ہیں۔ ریاست کے بھارت کے زیرِ انتظام حصے میں جموں کشمیر اور لداخ شامل ہیں۔ جموں کشمیر کا جنوبی علاقہ بھارتی پنجاب کے ضلع گورداسپور اور ہماچل پردیش سے متصل ہے، جہاں کٹھوعہ، لکھن پور، ہیرانگر، گھگوال، بسوہلی اور بلاور جیسے علاقے واقع ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخی ریاست جموں کشمیر کا مشرقی اور شمال مشرقی خطہ، لداخ، ہماچل پردیش، چین کے زیرِ انتظام سنکیانگ اور تبت، جبکہ مغرب کی جانب پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں سے متصل ہے۔
اسی طرح گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کے شمالی جغرافیے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے شمال اور شمال مغرب میں افغانستان کا واخان کوریڈور، شمال مشرق اور مشرق میں چین کا سنکیانگ، جنوب اور جنوب مشرق میں بھارت کے زیرِ انتظام لداخ، مغرب میں خیبر پختونخوا اور جنوب مغرب میں پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر واقع ہیں۔ خنجراب، شمشال، کلک، منٹاکا اور واخان جیسے جغرافیائی مقامات اس خطے کی بین الاقوامی جغرافیائی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ یہ تمام علاقے تاریخی ریاست جموں کشمیر کے وسیع جغرافیائی تناظر کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔اس طرح ریاست کے کسی ایک حصے کو الگ تھلگ دیکھنے کے بجائے اس کے پورے تاریخی اور جغرافیائی تناظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔)
اب دوبارہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک کی طرف آتے ہیں
یہ تحریک کسی علاقائی بالادستی، کسی ضلع کی اجارہ داری یا کسی مخصوص جغرافیائی شناخت کی جنگ نہیں لڑ رہی۔ یہ حقِ ملکیت، حقِ حکمرانی، معاشی انصاف، انسانی وقار اور عوامی حقوق کی اجتماعی جدوجہد ہے۔ اس کے مطالبات اس ریاستی اکائی کے ہر علاقے کے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں، خواہ وہ نیلم کی دشوار گزار وادیوں میں رہتے ہوں، لیپہ کے پہاڑوں میں، ہجیرہ اور عباس پور کے سرحدی علاقوں میں، باغ اور سدھنوتی میں، میرپور اور ڈڈیال میں، کوٹلی اور نکیال میں یا بھمبر اور سماہنی میں۔
اس تحریک کو پونچھ تک محدود دکھانے کی کوشش دراصل اس کے ریاستی اکائی گیر عوامی کردار کو چھوٹا کرنے کی کوشش ہے۔ بعض لوگ ناسمجھی میں یہی بیانیہ آگے بڑھا رہے ہیں، لیکن انہیں سمجھنا ہوگا کہ کسی پروپیگنڈے کو بار بار دہرانے سے وہ حقیقت نہیں بن جاتا۔
اور جو لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک صرف پونچھ یا راولاکوٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، انہیں اپنے اردگرد کی صورتِ حال کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے گردوپیش سے اٹھنے والی آوازیں سننی چاہئیں اور دنیا کے مختلف خطوں سے بلند ہونے والی صداؤں کو بھی دیکھنا چاہیے۔ یہ تحریک اب صرف پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کے خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چکی ہے۔
برطانیہ، یورپ، امریکہ، کینیڈا، مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے دیگر ممالک میں مقیم ریاست جموں کشمیر کے باشندے اس تحریک کے ساتھ اپنی وابستگی اور یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق ریاست کے کسی بھی حصے، کسی بھی ڈویژن، ضلع، شہر یا گاؤں سے ہو، وہ عوامی حقوق کی اس جدوجہد کے پشتیبان ہیں۔ ان کے لیے جغرافیائی فاصلے اس تحریک سے وابستگی میں رکاوٹ نہیں بن سکے۔ راولاکوٹ میں موجود لوگوں کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں آواز بلند کرنے والے لوگ اسی جدوجہد کا حصہ ہیں۔
اس لیے ہر شخص کو یہ حقیقت سمجھنی اور دوسروں تک پہنچانی چاہیے کہ اس تحریک میں پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے ہر علاقے، ہر خطے، ہر ضلع، ہر شہر اور ہر گاؤں کا انسان کسی نہ کسی صورت میں شریک ہے۔ یہ کسی ایک شہر یا ڈویژن کی تحریک نہیں بلکہ پوری ریاست کے عوام کے بنیادی حقوق کی اجتماعی جدوجہد ہے۔
جو لوگ راولاکوٹ کو تنہا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں حکومتی اور ادارہ جاتی بیانیے کی پیروی کرنے کے بجائے زمینی صورتِ حال کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ راولاکوٹ میں موجود اجتماع کو دیکھنا چاہیے، تینوں ڈویژنوں کی نمائندگی کو سمجھنا چاہیے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیریوں کی آوازوں کو سننا چاہیے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ کسی خبر، دعوے یا تبصرے کو حقیقت تسلیم کرنے سے پہلے اس کی زمینی تصدیق کریں۔ محض سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھانے کے بجائے حقائق کی جانچ کرنا ہر باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔
راولاکوٹ تنہا نہیں ہے، پونچھ تنہا نہیں ہے، اور عوامی حقوق کی جدوجہد بھی تنہا نہیں ہے۔ راولاکوٹ اس تحریک اور اس عوامی حقوق مارچ کا پڑاؤ ہے، تحریک کی حدود نہیں۔ یہ پونچھ کی نہیں، پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کے ہر فرد کے حقوق کی جدوجہد ہے، جس کی آواز اب دنیا کے کونے کونے میں پہنچ چکی ہے۔
