Input your search keywords and press Enter.

کانگریس کا مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (جموں) : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کانگریس پارٹی نے علاقے کی ریاستی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہاہے کہ مکمل اختیارات کی حامل منتخب حکومت نہ ہونے کے باعث عوام کو شدیدمشکلات کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں کانگریس کے صدر طارق حمید قرہ نے جموں کے علاقے اکھنور میں پارٹی کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی پارٹی کا اولین ایجنڈا ہے، کیونکہ بی جے پی کی زیرقیادت میں بھارتی حکومت نے علاقے کو اس کی ریاستی حیثیت اور دیگر اہم حقوق سے محروم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت سے محرومی کے باعث جموں و کشمیر کے عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

طارق حمید قرہ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ کانگریس آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد اور ہر شہری کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی کیونکہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے یہ حق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

کانگریس رہنما راہول گاندھی کی انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف مہم کا حوالہ دیتے ہوئے طارق حمید قرہ نے کہا کہ ان کی کوششوں نے مودی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی ملی بھگت سے ہونے والی ووٹ چوری کی مختلف صورتوں کو بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 13 کروڑ سے زائد افراد کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت گزشتہ کئی برسوں سے بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی میں ملوث رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقِ رائے دہی جمہوریت کے سب سے قیمتی حقوق میں سے ایک ہے اور کانگریس اور اس سے ہم خیال جماعتیں کسی کو بھی یہ حق چھیننے کی اجازت نہیں دیں گی۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں کانگریس کے قائم مقام صدر رمن بھلا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاستی حیثیت کی عدم موجودگی میں عوام دو مراکزِ اقتدار کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ریاستی حیثیت کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *