سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (جموں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فورسز کی محاصرے اور تلاشی کی کارروائی آج مسلسل 23 ویں روز بھی جاری ہے ،تاہم بڑی تعداد میں فورسز اہلکاروں کی تعیناتی اور نگرانی کے جدید آلات کے استعمال کے باوجود انہیں کچھ حاصل نہ ہوا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز کے ہزاروں اہلکار جنہیں ہیلی کاپٹروں، ڈرونز، سراغرساں کتوں اور پیرا کمانڈوز کی مدد حاصل ہے،23 مئی سے گمبھیرموگلہ اور ڈوری مل کے جنگلات میں آپریشن کررہے ہیں۔ تقریباً تین ہفتوں کی فوجی کارروائی کے باوجودبھارتی فورسز کوئی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔بھارتی فورسز نے نام نہاد ولیج ڈیفنس گارڈز کی مدد سے محاصرہ مزید سخت اور تلاشی کی کارروائیاںتیز کر دی ہیں جس سے پورا علاقہ ایک فوجی چھاﺅنی کا منظر پیش کررہا ہے۔گھروں پر بار بار چھاپے، نقل و حرکت پر پابندی اور فوج کی بھاری تعداد میںموجودگی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ طویل آپریشن سے علاقے میں معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے ہیں اور مقامی آبادی میں خوف ودہشت اور غیر یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹھوس نتائج کے بغیر آپریشن کا جاری رہنا بھارتی حکمت عملی کی ناکامی کو ظاہرکرتا ہے۔
