سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سری نگر): بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) نے جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر حالیہ چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے اسے علاقے میں پریس کی آزادی کو دبانے کی بھارتی حکومت کی پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔
” ڈی ایف پی “کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیر کے سب سے پرانے اور ایک مستند اخبار پر چھاپہ بلاجواز اور انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبار اور اس کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین کے خلاف لگائے گئے الزامات تنقیدی آوازوں کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم بھار تی پالیسی کا حصہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ کشمیر ٹائمز کی ایک شاندار تاریخ ہے جو بڑے پیمانے پر پڑھا جاتا ہے اور یہ کشمیر کے بارے میں معتبر معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ اخبار کو پیشہ ورانہ فرائض انتہائی احسن او دیانت داری سے نبھانے کی پاداش میں بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں، سیاسی کارکنوں و سماجی کارکنوں کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی املاک کی غیر قانونی ضبطی اور ان کے مکانات اور کاروباری مراکز کو مسمار کرنا معمول بن گیا ہے۔ انہوںنے پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ سمیت غیر قانونی طور پر نظر بنددیگر حریت رہنماﺅں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ ان کی رہائی کیلئے کردار ادا کریں.
