سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سری نگر) :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں ایک مرتبہ پھر جماعت اسلامی کے ارکان کی رہائش گاہوں اور مدارس پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائی کی ہے۔
یہ چھاپے شوپیاں، اسلام آ باد، کولگام ، بڈگام اور کپواڑہ اضلاع میں مارے گئے۔ بھارتی پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں نے ضلع شوپیاں کے علاقے امام صاحب ہلو میں جامعہ سراج العلوم اور ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ واری پورہ میں جامعہ اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے “ کے تحت چھاپے مارے۔ چھاپوں کے دوران الیکڑانک آلات اور دینی کتب ضبط کی گئیں۔بھارتی حکام نے ان دونوں اداروں کو جماعت اسلامی سے جوڑ دیا ہے جس پر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت نے پابندی عائد کررکھی ہے۔
بھارتی فورسز اہلکاروں نے محاصرے اور تلاشی کی ایک اور کارروائی کے دوران ضلع اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں جماعت اسلامی کے ارکان کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے اور تلاشی لی۔پولیس ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ تلاشی کی یہ کارروائی جدوجہد آزادی اور اس کے حمایتی ڈھانچے کو ختم کرنے کی جار ی مہم کا حصہ ہے۔
بھارتی پولیس نے جموں کے علاقے بھٹنڈی سے ایک 19 سالہ لڑکے کو گرفتار کیا۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، ، گھروں پر چھاپوں، تلاشی کی کارروائیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیل کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحانہ کارروائیاں علاقائی امن کیلئے بھی سنگین خطرہ ہیں۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و سلامتی کے لیے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
