Input your search keywords and press Enter.

کسی کی دوران حراست ہونے والی موت کا ہرگز کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا، بھارتی سپریم کورٹ

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سری نگر):بھارتی سپریم کورٹ نے حراستی تشدد اور ہلاکتوں کو ”نظام پر دھبہ“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی دوران حراست ہونے والی موت کا ہرگز کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔

سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس رواں برس کے پہلے آٹھ مہینوں میں راجستھان میں گیارہ حراستی اموات کے حوالے ایک از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے کہاکہ حراست میں موت نہیں ہو سکتی، یہ ملک اسے برداشت نہیں کرے گا۔ عدالت نے احتساب کو یقینی بنانے میں ناکامی پر حکام کو آڑے ہاتھوں لیا۔
عدالت نے بار بار کی ہدایات کے باوجود تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے حوالے رپورٹ جمع کرانے میں مودی حکومت کی ناکامی پر بھی سوال اٹھایا۔بنچ کا کہنا تھا کہ صرف 11 ریاستوں نے احکامات کی تعمیل کی رپورٹس جمع کرائی ہیں جب کہ نئی دلی سمیت دیگر ریاستوں نے تاحال رپوٹس جمع نہیں کرائی ہیں۔ بنچ نے متنبہ کیا کہ اگر رپوٹس جمع کرانے کے حکم کی فوری طورپر تعمیل نہ کی گئی تو ریاستوں کے محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹریوں کو 16 دسمبر کو طلب کیا جائے گا۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماﺅں نے سری نگر میں اپنے بیانات میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اب تک حراستی تشدد، گمشدگیوں اور قتل کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوئے ہیںتاہم آج تک کسی بھی مجرم بھارتی فورسز اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *