Input your search keywords and press Enter.

۵ فروری۔۔۔پاکستان کے تاریخی کردار کوسلام

ڈاکٹرنذر حافی :

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ آج دنیا میں نہ ہندوستان سے کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ اسرائیل سے۔ کشمیر فلسطین سے بھی زیادہ مظلوم واقع ہوا ہے۔ دنیا میں اسرائیل کے مظالم پر تو بات ہوتی ہے لیکن ہندوستان کے جبرواستبداد پر کوئی بات نہیں کرتا۔ ایسے میں پاکستانی ہر سال ساری دنیا میں ۵ فروری کویومِ یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔ یہ دن ملتِ پاکستان کی طرف سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ایک عہد کی تجدید کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انصاف کے لیے آواز اٹھانے، اور ظلم کے مقابلے میں خاموش نہ رہنے کے عہد کی تجدید۔ کشمیر اور فلسطین یہ دونوں خطے جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے دور ہیں لیکن مقبوضہ ہونے کے ناتے، جبر کے رائج طریقوں اور عالمی بے حسی کے رویّوں کے تناظر میں حیرت انگیز حد تک ان کے درمیان مماثلت پائی جاتی ہے۔ ایک المیہ پہاڑوں کی خاموش وادیوں میں رقم ہوا ہے، اور دوسرا سمندر کے کنارے ملبے اور لاشوں کے درمیان۔ ان دونوں خِطّوں میں انصاف کو مؤخر کرنے کا نام امن رکھ دیا گیا ہے ۔
فلسطین کی مانند گزشتہ دہائیوں میں مقبوضہ کشمیر میں تشدد کو طاقت کے کے طور پر ایک منظم حکمتِ عملی کے طور پر مسلسل اپنایا جارہا ہے۔آئے روز پیلٹ گنز کے ذریعے آنکھوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ سچ دیکھنے والی آنکھ ہی باقی نہ رہے۔ نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر نامعلوم ٹارچر سیلوں میں منتقل کیا گیا، جہاں جسمانی اذیت، ذہنی دباؤ اور جبری اعترافات روزمرہ کا معمول ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے خوف کو لوگوں پر مسلط کیا گیا تاکہ ہر شخص خود کو گولی کا اگلا ممکنہ نشانہ سمجھے۔
بظاہر غزہ میں تشدد کی نوعیت کچھ مختلف ہے لیکن مقصد وہی ہے۔ وہاں ٹارچر سیلوں کے ہمراہ کھلے آسمان تلے بمباری بھی ہوتی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ میزائلوں کی بارش بھی ہوتی ہے۔ وہاں بھی پورے کے پورے خاندان کو ایک ہی حملے کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے، اور اجتماعی قتل کو دفاعی حکمتِ عملی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ نہ واردات تبدیلی ہوتی ہے اور نہ طریقہ واردات۔ پوچھنے اور روکنے و ٹوکنے والا جو کوئی نہیں۔
ان دونوں خطوں میں جبر کا ایک اور مشترک پہلو اطلاعات و معلومات کا قتل ہے۔ کشمیر میں طویل عرصے تک انٹرنیٹ کی بندش، صحافیوں کی گرفتاری، اخبارات پر پابندیاں اور پریس کو خاموش رکھنے کے حربے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں گولی کے ساتھ سچائی کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بالکل جیسے غزہ میں صحافی براہِ راست نشانہ بنتے ہیں، میڈیا دفاتر تباہ کیے جاتے ہیں، اور مواصلاتی نظام کو مفلوج کر دیا جاتا ہے تاکہ لاشوں کی گنتی بھی دنیا تک مکمل نہ پہنچ سکے۔ اسی طرح کشمیر میں بھی یہ سب جاری ہے۔ انٹرنیٹ، پریس، میڈیا اور صحافیوں کا ناطقہ بند کر کے ہندوستانی مظالم کو جائز قرار دیتے ہوئے مقبوضہ وادی میں موجود گھٹن کو آسانی سے “پیچیدہ صورتحال” قرار دے دیا جا تاہے۔
ہندوستانی میڈیا اور اداروں کا سب سے خطرناک ہتھیار اِن کے وہ جُملے ہوتے جن میں ریاستی تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور اجتماعی سزا کو “دونوں فریقوں کی کشیدگی” کہہ دیا جاتا ہے۔ جب ان کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ “دونوں جانب سے تحمل کی ضرورت ہے” تو دراصل قابض فورسز اور محصور آبادی کو ایک ہی سطح پر لا کھڑا کیا جاتا ہے۔ ایسی بولی جانے والی یہ زبان خود ایک آلہ قتل ہے۔یہ بیانیہ مقبوضہ کشمیر میں بھی بارہا آزمایا گیا۔ جب ماورائے عدالت قتل ہوئے تو کہا گیا “سکیورٹی خدشات” ہیں۔ جب ٹارچر سیلوں کی شہادتیں سامنے آئیں تو “ثبوت ناکافی” قرار دیے گئے۔ جب انٹرنیٹ بند کر کے پوری وادی کو دنیا سے کاٹ دیا گیا تو اسے “عارضی انتظام” کہا گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر لاش، اندھی آنکھ اور انٹرنیٹ پر پابندی سے بڑھ کر دنیا کو بھارتی مظالم کا اور کون سا ثبوت درکار ہے؟
دوسری طرف آج غزہ ایک کھلے قبرستان کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس پر سفارت کاری کی ایک دبیز چادر تان دی گئی ہے۔ یہ نام نہاد امن بورڈ درحقیقت وقفۂ قتل کی کمیٹیاں ہیں جو تشدد کو روکتی نہیں بلکہ اس کی رفتار کو اس انداز سے منظم کرتی ہیں کہ عالمی میڈیا اور عالمی ضمیر دونوں باری باری سانس لے سکیں۔
یہی پسِ منظر “غزہ امن بورڈ” کا بھی ہے۔ یہ ادارہ امن کا علمبردار دکھائی تو دیتا ہے لیکن در حقیقت طاقتوروں کے بیانیے کا منتظم ہے۔ ایسے ادارے خون کے دریا کے کنارے بیٹھ کر پانی کی سطح ماپتے ہیں، اور ٹارچر سیلوں، اجتماعی قبروں اور مسخ شدہ لاشوں کا ذکر ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوتا۔ ہر بڑے سانحے کے بعد ایک اجلاس، ہر اجلاس کے بعد ایک بیان، اور ہر بیان کے بعد وہی خاموشی یہی ان کی راہ و روش ہے۔
ایسے ماحول میں پاکستان کا ریاستی مؤقف ایک نمایاں اخلاقی فرق کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے معاملے میں مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ محض سرحدی تنازعات نہیں بلکہ انسانی حقوق، ریاستی تشدد اور حقِ خودارادیت کا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیلٹ گنز، کرفیو، ٹارچر سیلوں اور پریس بلیک آؤٹ کو پاکستان نے ہمیشہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پاکستان کیلئے ہمیشہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں رسمی کاغذات کے بجائے اصولی جدوجہد کی بنیاد رہی ہیں۔
فلسطین کے معاملے میں بھی پاکستان ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی سیاسی و معاشی قیمت ادا کی لیکن اخلاقی مؤقف ترک نہیں کیا۔ جب غزہ میں ٹارگٹ کلنگ اور اجتماعی بمباری کو “دفاع” کہا گیا، تو پاکستان نے اسے واضح طور پر جارحیت قرار دیا۔ مسئلہ فلسطین و کشمیر پر جب بھی قاتل اور مقتول کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان نے واضح کیا کہ ظلم کے معاملے میں غیر جانبداری ممکن نہیں۔
تاہم یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کر کے پاکستان نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ اربابِ اقتدار کو اس بورڈ میں اپنی شمولیت کا از سرِ نو جائزہ لینا چاہیے۔ اس شمولیت نے پاکستانی کی اخلاقی حیثیت کو دھندلا دیا ہے جو برسوں سے پاکستان کے مؤقف کی شناخت تھی۔ ایک ایسا فورم جو ٹارچر، ٹارگٹ کلنگ اور میڈیا بلیک آؤٹ جیسے جرائم کو محض “تشویشناک صورتحال” کہتا ہے، اُس کا حصّہ بننے سے پاکستان کی تاریخی آواز بورڈ کے اجتماعی بیانات کے شور میں گم ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ اس فیصلے کے بدلے میں پاکستان کی وہ اخلاقی برتری خطرے میں پڑ گئی ہے جو اس کا اصل سرمایہ تھی۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کےریاستی مؤقف کے ساتھ ساتھ کشمیر اور فلسطین کے معاملات میں پاکستانی عوام کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عوامی سطح پر احتجاج، دعائیں، امدادی مہمات، اور اظہارِ یکجہتی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی عوام نے ریاستی تشدد، ٹارچر سیلوں اور میڈیا خاموشی کو کبھی معمول نہیں مانا۔ ان مسائل کو جہاں حکومت نے خارجہ پالیسی کے طور پر اٹھایا وہیں عوام نے بھی ہمیشہ ان مسائل کو اجاگر کرنے کو ایک اخلاقی فریضہ سمجھا۔
یقیناً پاکستان میں بھی حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ یہاں بھی سیاسی تضادات، سفارتی کمزوریاں اور وقتی مصلحتیں موجود رہتی ہیں،لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان کی ریاست اور عوام دونوں کی سطح پر پاکستانیوں نے کشمیر اور فلسطین کو کبھی تجارتی یا نمائشی مسئلہ نہیں بنایا۔ نہ ہی ان مسائل کو لے کر این جی او صنعت کھڑی کی گئی، نہ امن کانفرنسوں کو کاروبار بنایا گیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مانند کشمیر اور فلسطین کے معاملات کو کبھی مالی یا تجارتی مواقع بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ بعض ممالک یا تنظیمیں ان مسائل پر کام کو ایک فلاحی یا امدادی صنعت میں تبدیل کر دیتی ہیں جہاں این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) بس فنڈز اکٹھا کرنے، کانفرنسیں منعقد کرنے، یا میڈیا میں سرگرم رہنے کے لیے کام کرتی ہیں، اور اُن کا اصل مقصد انسانی حقوق یا انصاف کی جدوجہد نہیں ہوتا۔ دنیا میں بعض ممالک اور بین الاقوامی ادارے ایسے ہیں جو پروپیگنڈا یا نمائشی کانفرنسیں منعقد کر کے پیسہ کماتے ہیں، میڈیا میں موجودگی بڑھاتے ہیں، یا سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرتے ہیں، لیکن اصل انسانی مسئلہ یا انصاف پس پشت رہ جاتا ہے۔ہم نے ان مسائل کو اخلاقی، انسانی اور اصولی معاملہ سمجھا، نہ کہ تجارتی یا پیشہ ورانہ مواقع پیدا کرنے والا کوئی موقع۔ ہمارے اور دنیا کے دیگر “ ممالک” کے درمیان یہ ایک واضح فرق ہے۔ ایک طرف قانون، اصول اور اخلاق ہے جبکہ دوسری طرف ظاہر سازی اور سودے بازی۔
بڑی طاقتوں اور اقوامِ متحدہ کا طرزِ عمل بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہر لاش پر ایک بیان، ہر ٹارچر سیل پر خاموشی، ہر صحافی کی موت پر رسمی افسوس، اور ہر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ پر “صورتحال کا جائزہ”۔ بہر حال یہ بیانات محض لفظی کفن ہیں جو لاشوں کو ڈھانپتے ہیں، انصاف کو نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ جہاں انصاف طاقت کے تابع ہو جائے، وہاں امن قائم ہونے کے بجائے لاشیں گرنے کا درمیانی وقفہ بن جاتا ہے۔ پاکستان کا شمار اسلامی جمہوریہ ایران کی مانند ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے کم از کم یہ جرم نہیں کیا کہ تشدد، ٹارچر اور قتل کو غیر جانبداری کا نام دے اور پاکستانی عوام نے بھی ان جرائم کو قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔جب بھی کوئی ایمانداری سے تاریخ کا مطالعہ کرے گا تو وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اس انکار کو مظلوموں کے حق میں سب سے بڑی اخلاقی گواہی قرار دے گا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی مسئلہ کشمیر زندہ ہے اور مسئلہ فلسطین سانس لے رہا ہے چونکہ پاکستان اور پاکستانی عوام،کبھی بھی کشمیر اور فلسطین کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے۔۵ فروری کا دن جہاں مظلوم کشمیریوں کی حمایت کا دِن ہے وہیں مظلوموں کی حمایت میں پاکستان کے تاریخی کردار کو سلام پیش کرنے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستانی ریاست اور عوام نے ہمیشہ انسانی حقوق، انصاف اور مظلوموں کے حق میں اپنی آواز بلند رکھی، چاہے عالمی دباؤ کتنا بھی شدید ہو۔ یہ دن صرف ایک تاریخ ہی نہیں بلکہ پاکستانیوں کی طرف سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ایک عہد بھی ہے۔ انصاف کے لیے آواز اٹھانے، اور ظلم کے مقابلے میں خاموش نہ رہنے کا عہد۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *