سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ مقبوضہ کشمیر کی سیاست میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر ڈاکٹر منیب دیوا نے اپنے متعدد حامیوں کے ہمراہ ضلع اننت ناگ سے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) میں شمولیت اختیار کی، جسے اس حلقے میں پارٹی کے لئے ایک بڑی تقویت قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر منیب دیوا کو سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل کیا گیا، جہاں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر محبوبہ مفتی نے حالیہ انسدادِ عسکریت پسندی آپریشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس دوران ایک شہری جانبحق ہوا۔ انہوں نے اس واقعے کی منصفانہ، شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔
انہوں نے بجلی سے متعلق مسائل پر عوامی پریشانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے پاور ایمنسٹی کے مطالبے کو دہرایا اور جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں اور جاری منصوبوں کے حوالے سے عوام دوست اور معقول پالیسی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منیب دیوا نے کہا کہ وہ عوام کی خدمت اور ان کے اہم مسائل کے حل کے عزم کے ساتھ پی ڈی پی میں شامل ہوئے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ پیشرفت اننت ناگ کے سیاسی منظرنامے کو متاثر کر سکتی ہے اور خطے میں پی ڈی پی کی پوزیشن کو مضبوط بنا سکتی ہے، جبکہ جنوبی کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی کے ساتھ دیگر جماعتوں کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہو رہی ہے۔
