سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے آج مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے موقعہ پر حالیہ گاندربل کے بھارتی فوج اور عسکری پسندوں کے درمیان مبینہ تصادم پر تشویش کا اظہار اور کہا کہ چنانچہ کل ارہامہ، گاندربل میں ایک مبینہ انکاونٹر میں ایک نوجوان راشد احمد مغل کی ہلاکت کی انتہائی افسوسناک خبریں سامنے آئیں۔ ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک پارٹ ٹائم کمپیوٹر آپریٹر تھے جن کا عسکریت سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور انہیں اٹھا کر بے دردی سے قتل کیا گیا۔ اس واقعے نے ماضی کے ایسے کئی دردناک واقعات کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ان کے اہلِ خانہ ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ہم صرف یہی امید کر سکتے ہیں کہ انہیں انصاف ملے، اگرچہ ماضی کے تجربات زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔ تاہم چونکہ یہ خبر آئی ہے کہ ایل جی صاحب نے خود اس معاملے میں انکوائری کا حکم دیا ہے، ہم امید رکھتے ہیں کہ اس بار انصاف ہوگا اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا اور انہیں سزا دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی میت کو بھی اہلِ خانہ کے حوالے نہ کرنا غیر انسانی اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح تقریباً روزانہ اخبارات میں یہ خبریں آتی ہیں کہ مختلف ایجنسیاں ایس آئی اے، سی آئی کے، سائبر سیل، اے سی بی اور این اے آئی کسی نہ کسی بنیاد پر کشمیریوں کے خلاف کیس درج کر رہی ہیں، چارج شیٹس پیش کی جا رہی ہیں اور گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ اس سے ایک ایسی فضا پیدا ہو رہی ہے جو خوف اور دباو سے بھری ہوئی ہے اور ایک ایسی سوچ کو تقویت ملتی ہے جس میں پورے کے پورے معاشرے کو مشکوک اور خطرناک بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جیسے انہیں قابو میں رکھنا ضروری ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جابرانہ پالیسیاں نہ پائیدار امن قائم کر سکتی ہیں اور نہ ہی ترقی کی راہ ہموار کر سکتی ہیں اگر واقعی یہی مقصد ہے جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔
عوام کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ یہ بھی کہا کہ ایک طویل عرصے کے بعد آج میں آپ کے سامنے جامع مسجد میں موجود ہوں۔ کشمیر کے مسلمانوں کے اس مرکزی عبادت گاہ تک رسائی کو بار بار حکام کی مرضی پر محدود کیا جاتا رہا ہے۔ عید کی نماز کی اجازت نہیں دی گئی، اسی طرح ماہ رمضان کے دوران کئی جمعے سے بھی ہم کو محروم رکھا گیا جن میں شبِ قدر کی مقدس رات اور دن اور جمعتہ الوداع بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بار بار کی پابندیاں محض ایک مسجد کو بند کرنے تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ ایک بڑی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں معمول کی زندگی کا ڈھنڈورا اس طرح پیٹا جا رہا ہے جبکہ لوگوں کے بنیادی حقوق کو پابندیوں، رکاوٹوں اور سنسرشپ کے ذریعے سلب کیا جا رہا ہے، بدقسمتی سے کشمیریوں کی ہراسانی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
