Input your search keywords and press Enter.

ایران نے آذربائیجان کی سرحد ایک ہفتے کے لیے بند کر دی، جس کے باعث کشمیری طلبا سرحدی علاقوں میں پھنس گئے۔

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی بحرانی صورتحال کے دوران بھارتی شہریوں کا ایک گروپ، جن میں بیشتر مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے میڈیکل کے طالب علم شامل ہیں ایران کے ارمینیا اور آذربائیجان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق طلبا نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان کی واپسی کے لیے فوری اقدامات کرے۔بھارتی وزارت خارجہ نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے دو زمینی راستوں سے ایک ہزار170 سے زائد شہریوں کو بھارت واپس لانے میں سہولت فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔تاہم زمینی صورتحال ایک مختلف تصویر پیش کر رہی ہے ۔ قم سے آذربائیجان کی سرحد پر لائے جانے والے بھارتی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل جنگی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں اور حکومت انہیں واپس لانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کررہی ہے۔ ایک طالب علم نے ویڈیو کال کے ذریعے میڈیا کو بتایا، سیکڑوں لوگ یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ آذربائیجان کے حکام روزانہ صرف دس طالب علموں کو انکے وطن کیلئے روانہ رہے ہیںاور اب یہ سلسلہ بھی بند ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے کسی کو بھی سرحدی چیک پوسٹ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ایک اور طالب علم نے کہاکہ ان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔آرمینیا کے راستے سفر کرنے والے طلبا کو سفری ٹکٹوں کی بار بار منسوخی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے غیر یقینی صورتحال میں مزیداضافہ ہورہا ہے۔آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر محمد مومن خان نے تہران میں بھارتی سفارت خانے سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ایک اندازے کے مطابق 9ہزار سے زائد بھارتی شہری جن میں سے بیشتر مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے میڈیکل کے طلبہ ہیں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں ۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *