Input your search keywords and press Enter.

قومی حقوق انسانی کمیشن نے بھارت بھر میں کشمیریوں کے خلاف حملوں اور ہراسانی کا نوٹس لیا

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ قومی کمیشن برئے انسانی حقوق (این ایچ آر سی) نے بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیری شال بیچنے والوں اور طلبہ کے خلاف ہراساں کرنے اور حملوں کے واقعات کا سخت نوٹس لیا۔ کمیشن نے جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) کی طرف سے دائر کی گئی شکایت زیر نمبر 684/90/0/2026 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ جس میں بھارت کی کئی ریاستوں میں کشمیری شال فروخت کرنے والوں اور طلبہ کو مبینہ طور پر ڈرانے، ہراساں کرنے، امتیازی سلوک اور جسمانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

 

ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، دہلی، مہاراشٹر اور اترپردیش سے رپورٹ ہونے والے واقعات کے بعد جے کے ایس اے کے قومی کنوینر ناصر کھوہامی نے اس سال کے شروع میں شکایت درج کروائی تھی۔ شکایت میں ایسی مثالیں درج کی گئی ہیں جن میں کشمیری شال فروخت والوں پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں، ان کی تذلیل کی گئی، ان کو تجارت کرنے سے روکا گیا، اور بعض صورتوں میں، ان علاقوں کو چھوڑنے پر مجبور کیا گیا جہاں وہ کئی دہائیوں سے رہ رہے تھے اور پُرامن طریقے سے کام کر رہے تھے۔ جب کہ کئی کشمیری طلبہ کو رہائش دینے سے انکار، فرقہ وارانہ پروفائلنگ اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات بھی درج کیے گئے۔

 

ایسے میں قومی کمیشن. برئے انسانی حقوق نے شکایت کو تسلیم کیا تھا اور اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ معاملے کو باضابطہ طور مقدمہ نمبر 684/90/0/2026 کے تحت درج کیا گیا۔ ایسے میں یہ کمیشن کی جانب سے ایسوسی ایشن کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کی جانچ کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ یہ پیشرفت کشمیری طلبہ اور شال فروخت والوں کو مختلف ریاستوں میں بار بار تشدد، ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنائے جانے کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ جے کے ایس اے کی طرف سے مختلف ریاستی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بار بار نمائندگی کرنے کے باوجود بہت سے متاثرہ افراد خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی بسر کرتے رہے، مبینہ طور پر کئی تاجر اپنے کاروبار بند کرنے اور گھر واپس جانے پر مجبور ہوئے۔

 

ایسوسی ایشن نے کہا کہ کمیشن متعلقہ ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرے گا اور متعلقہ انتظامیہ اور پولیس حکام سے شکایت میں نمایاں ہونے والے واقعات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کرے گا۔ ان رپورٹس میں ایف آئی آر درج ہونے، گرفتاریوں، ملزمان کے خلاف کی گئی کارروائی، اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور ان ریاستوں میں مقیم کشمیری طلبہ اور تاجروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات شامل ہیں۔ ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ کمیشن ان واقعات کا بغور جائزہ لے گا اور جموں و کشمیر سے باہر مقیم اور کام کرنے والے کشمیری شہریوں کے تحفظ، عزت، معاش اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے مناسب اقدامات کی سفارش کرے گا۔

 

ایسوسی ایشن نے کمیشن پر مزید زور دیا کہ جہاں شکایات کا جواب دینے اور کمزور افراد کی حفاظت میں کوتاہی ہوئی ہو، وہ ایسے معاملات میں احتساب کو یقینی بنائے۔ ایسوسی ایشن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیری بھارت کے مساوی شہری ہیں اور آئین کے تحت یکساں حقوق، آزادیوں اور تحفظات کے حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کے خلاف شناخت، علاقے، مذہب یا لباس کی بنیاد پر تشدد، امتیازی سلوک، دھمکیاں یا سماجی اخراج کی قانون کی حکمرانی کے تحت چلنے والے جمہوری اور آئینی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *