سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ راجستھان میں سائیقون خان کے قتل پر میرواعظ عمر فاروق کا اظہارِ رنج و تشویش کیا اور کہا کہ نفرت انگیز تقاریر معمول کی سیاسی گفتگو بن چکی ہیں، اس خطرناک رجحان کا خاتمہ ضروری ہے۔ میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے راجستھان میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر سائیقون خان کے بہیمانہ قتل پر گہرے رنج و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ راجستھان میں ایک پولیس اسٹیشن کے باہر سائیقون خان کا بہیمانہ قتل انتہائی ہولناک ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ انہیں محض اس لئے نشانہ بنایا گیا کیونکہ ان کی داڑھی اور ٹوپی ان کی مسلم شناخت ظاہر کرتی تھی۔ اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیئے۔
میرواعظِ کشمیر نے کہا کہ ہر دوسرے دن ہم مختلف ریاستوں میں بی جے پی کے رہنماؤں اور وزراء کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز اور فرقہ وارانہ بیانات سنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے منصب پر فائز افراد کی جانب سے اس طرح کی زبان تعصب کو معمول بناتی جا رہی ہے اور نفرت کو حوصلہ دے رہی ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر اب معمول کی سیاسی گفتگو بن چکی ہیں، جب عوامی پلیٹ فارموں سے بار بار نفرت کو جواز اور تقویت دی جائے، تو پھر ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیئے کہ اس کے نتائج سڑکوں پر بھی نظر آئیں، اس خطرناک معمول سازی کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔
