سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ارکان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں ریاستی حیثیت سے متعلق پیش کی گئی قرارداد میں ترامیم پیش کی ہیں جن میں دفعہ370 اور 35 اے کے تحت مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکمران نیشنل کانفرنس اور اس کی اتحادی جماعتوں کے آٹھ ارکان سمیت 10 ارکان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد میں ترامیم پیش کی ہیں جن میں 5 اگست 2019 سے پہلے موجود آئینی حیثیت کے ساتھ ساتھ دفعہ370 اور 35 اے کی بحالی کا واضح مطالبہ کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے گزشتہ جمعہ (25 ستمبر) کو اسمبلی میں یہ قرارداد پیش کی تھی جس میں خطے کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ یہ ایوان بھارتی حکومت سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور ہنگامی بنیادوں پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد بھارتی حکومت کو بھیجی جائے۔
این سی کی زیر قیادت حکومت نے 2000 میں اسمبلی میں قرارداد منظور کی تھی جس میں 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد پر بحث اور ترامیم آج کی اسمبلی کارروائی کا حصہ ہیں۔
این سی کے ارکان نے قرارداد میں دفعہ370 اور 35 اے کو اسی شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس شکل میں یہ 5 اگست 2019 سے پہلے موجود تھے جب جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔
نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق نے ایک ترمیم پیش کی ہے جس میں ایوان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ دفعہ370 اور 35 اے میں موجود آئینی ضمانتوں کی بحالی کے عزم کا اعادہ کرے جو 5 اگست 2019 سے قبل موجود تھیں۔تنویر صادق کے علاوہ این سی کے مزید چار ارکان اسمبلی جاوید حسن بیگ، اعجاز جان، الطاف احمد وانی اور ہلال اکبر لون نے بھی ترامیم پیش کی ہیں۔ پارٹی کے آزاد اتحادی ارکان چودھری محمد اکرم اور مظفر اقبال خان نے بھی دفعہ370 اور 35 اے کو قرارداد میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پی ڈی پی کے وحید پرہ اور آغا سید منتظر مہدی نے بھی ترامیم پیش کی ہیں۔ وحید پرہ نے دفعہ370 اور 35 اے کو ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کے علاوہ خودمختاری کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثناءبھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کے خلاف اسمبلی کے اندر احتجاج کیا۔ قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن اور 2000 کی قرارداد سے متعلق حوالوں پر اعتراض کیا۔بی جے پی کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے ایوان کی کارروائی کے دوران قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس جمع کرایا۔
