Input your search keywords and press Enter.

شیخ العالم ڈی کارڈف اسکول کشمیر میں تعلیم و تربیت پر سیمینات

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ وادی کشمیر میں تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی، روحانی اور تہذیبی تربیت کو فروغ دینے کے لئے قائم شیخ العالم ڈی کارڈف اسکول چرار شریف کشمیر ایک ایسے تعلیمی ادارے کے طور پر اپنی شناخت بنا رہا ہے جہاں جدید تعلیم کے ساتھ طلبہ کی کردار سازی، اخلاقی تربیت اور اپنی تہذیبی و روحانی روایات سے وابستگی پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ چرار شریف کو کشمیر کی علمی، روحانی اور صوفیانہ روایت میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ سرزمین حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ، المعروف شیخ العالم کی نسبت سے نہ صرف کشمیر بلکہ برصغیر کے روحانی و فکری منظرنامے میں ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ ایسے تاریخی اور روحانی ماحول میں قائم تعلیمی ادارے کی اہمیت اس اعتبار سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہاں نئی نسل کو علم کے ساتھ اپنی تہذیبی، اخلاقی اور روحانی میراث سے روشناس کرانے کے امکانات موجود ہیں۔

 

شیخ العالم ڈی کارڈف اسکول میں تعلیم کو محض نصابی سرگرمی تک محدود رکھنے کے بجائے طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما پر زور دیا جاتا ہے۔ ادارے کا بنیادی تصور اس سوچ کے گرد گھومتا ہے کہ ایک کامیاب طالب علم صرف تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والا فرد نہیں بلکہ اچھے اخلاق، نظم و ضبط، ذمہ داری، احترامِ انسانیت اور معاشرتی شعور سے آراستہ شخصیت بھی ہونا چاہیئے۔ ماہرینِ تعلیم کے مطابق موجودہ دور میں بچوں کو جدید سائنسی اور تکنیکی علوم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں اخلاقی اقدار پیدا کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی اور مسابقت کے اس دور میں اگر تعلیم کو کردار سازی اور تربیت سے الگ کر دیا جائے تو تعلیمی ترقی اپنے حقیقی مقصد سے دور ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ایسے ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جو تعلیم اور تربیت کو ایک دوسرے کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔

 

آج کے دور میں والدین اپنے بچوں کے لیے ایسے تعلیمی ماحول کے خواہاں ہیں جہاں جدید تعلیمی تقاضوں کے ساتھ اخلاقی اور سماجی تربیت کو بھی اہمیت حاصل ہو۔ شیخ العالم ڈی کارڈف اسکول کا تصور اسی ضرورت کے تناظر میں اہمیت اختیار کرتا ہے۔ اس نوعیت کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ نظم و ضبط، وقت کی پابندی، اساتذہ اور والدین کا احترام، باہمی تعاون، ذمہ داری کا احساس اور معاشرے کے لئے مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ تعلیم کے اس جامع تصور کا مقصد ایسی نسل کی تشکیل ہے جو جدید دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونے کے ساتھ اپنی تہذیبی اور اخلاقی بنیادوں سے بھی مضبوطی سے جڑی رہے۔ کشمیر میں تعلیمی اداروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم ایسے اداروں کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے جہاں تعلیم کے ساتھ شخصیت سازی اور کردار سازی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ خاص طور پر موجودہ دور میں جب نوجوان نسل مختلف سماجی، ثقافتی اور فکری چیلنجز سے دوچار ہے، وہاں تعلیمی اداروں کا کردار صرف کتابی علم فراہم کرنے تک محدود نہیں رہ سکتا۔

 

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیادی ضمانت ہے، تاہم تعلیم کا حقیقی مقصد اس وقت پورا ہوتا ہے جب علم انسان کے کردار اور عمل میں بھی نظر آئے۔ علم کے ساتھ اخلاق، شعور کے ساتھ ذمہ داری اور ترقی کے ساتھ اپنی شناخت سے وابستگی ایک متوازن شخصیت کی تشکیل کے لئے ناگزیر ہیں۔ چرار شریف جیسے تاریخی اور روحانی مقام پر تعلیم و تربیت کے اس تصور کو فروغ دینا کشمیر کی علمی و تہذیبی روایت کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ شیخ العالم ڈی کارڈف اسکول چرار شریف اسی پیغام کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ تعلیم صرف مستقبل بنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار، شعور اور انسانیت کی تعمیر کا نام بھی ہے۔ اس سیمینار میں دانشوروں اور علماء دین نے تعلیم و تربیت کے موضوع پر تفصیلی خظابات کئے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *