سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (اسلام آباد): کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ نے کہا ہے کہ 6 نومبر 1947 کو جموں کے مسلمانوں کا قتلِ عام محض فرقہ وارانہ تشدد نہیں تھا بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی نسل کشی تھی جس کا مقصد جموں میں مسلم اکثریت کا خاتمہ کرنا تھا۔ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنمائوں شیخ محمد یعقوب، سید گلشن احمد ،مشتاق گیلانی، زاہد اشرف، زاہد صفی، مشتاق احمد بٹ اور محمد شفیع ڈار شامل ہیں،نے اسلام آباد سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ انسانی تاریخ میں ایک ہی دن لاکھوں لوگوں کے قتلِ عام کی کوئی اور مثال نہیں ملتی،جموں کے مسلمانوں نے پاکستان سے اپنی بے پناہ محبت کے اظہار کے لیے اپنی جانوں، جذبات، بچوں، گھروں اور رشتہ داروں کی لازوال قربانی دی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ مسلمانوں کا قتلِ عام اگست ہی سے شروع ہو چکا تھا لیکن 6 نومبر کے قتلِ عام کی شدت اور منظم منصوبہ بندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموں میں تعینات مسلمان پولیس افسران کے تبادلے اکتوبر میں ہی کر دیے گئے تھے۔جموں چھائونی میں تعینات مسلمان بریگیڈئر کی جگہ ایک ڈوگرہ بریگیڈئر کو تعینات کر دیا گیا تھا۔اسی دوران، پٹیالہ سے سکھ اور ہندو حملہ آور جموں میں داخل ہوئے اور وحشیانہ قتل و غارت، آتش زنی، محاصرے اور عصمت دری جیسے گھنائو نے جرائم کا ارتکاب کیا، جموں کے عوام پہلے ہی گورکھا رجمنٹ کے مظالم کا شکار تھے۔
انہوں نے بتایا کہ نومبر 1947 کے اوائل میں ایسے اعلانات کیے گئے جن میں پاکستان ہجرت کرنے کے خواہشمند مسلمانوں سے کہا گیا کہ وہ جموں میں پولیس لائنز میں رپورٹ کریں،وہاں بچوں اور خواتین سمیت بے گناہ شہری جمع ہو گئے ،تاہم کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ، پٹیالہ کے مہاراجہ یادویندر سنگھ، بھارت کے وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل اور وزیر دفاع بلدیو سنگھ پہلے ہی اس قتلِ عام کی نگرانی کے لیے ایک منصوبہ تیار کر چکے تھے۔
انہوں نے بے گناہ شہریوں سے بھرے سینکڑوں ٹرکوں کو 5 نومبر کو ’ماوااور 6 نومبر کو ’ستواری‘ کے مقامات پر لے جایا گیا جہاں ان لوگوں کا اجتماعی قتلِ عام کیا گیا جبکہ کم عمر لڑکیوں کو اغوا کر لیا گیا۔ ان مظالم کو نہ صرف مقامی مورخین اور صحافیوں نے بلکہ برطانوی مورخ ایلسٹر لیمب، ’سٹیٹس مین‘ کے ایڈیٹر ایان سٹیفنز، ولیم ڈبلیو بیکر اور برک الیگزینڈر جیسے صحافیوں نے بھی دستاویزی شکل میں محفوظ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1947 میں جموں میں ہونے والا قتلِ عام جو برصغیر کی تقسیم کے دوران پیش آیا جنوبی ایشیا کی تاریخ کے انتہائی المناک ابواب میں سے ایک ہے، 6 نومبر ہمیں ہماری اس ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان شہداکا خون رائیگاں نہ جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں کے لاکھوں شہدااور وادی کے شہداکا خون ہم پر قرض ہے اور یہ قرض تبھی ادا کیا جا سکتا ہے جب ہم خود کو ظالمانہ بھارتی قبضے سے آزاد کروا لیں۔
