Input your search keywords and press Enter.

راولاکوٹ کی مٹی میں سو گئے لڑکپن کے دو ساتھی، یہ صرف دو جنازے نہیں، خوابوں کا ماتم ہے!

تحریر: خواجہ کاشف میر

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ آج صبح راولاکوٹ کے ڈی چوک سے آنے والی خبر نے مجھے اندر تک توڑ کر رکھ دیا۔ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں دو ایسے نوجوان بھی شامل تھے جن کے ساتھ میری زندگی کے کئی برس، یادیں اور جذبات وابستہ ہیں۔ ایک چمبہ ناڑ کا رہائشی عاطف جرجیس اور دوسرا منگ چہڑھ سے تعلق رکھنے والا میرا پڑوسی اور لڑکپن سے جوانی تک کا ساتھی عادل رشید۔

عاطف جرجیس محض میرا پرانا کلاس فیلو نہیں تھا، بلکہ ہمارے بچپن کے کئی سال ایک ہی کلاس روم اور اسکول گراؤنڈ میں کھیلتے، ہنستے اور زندگی کے ابتدائی خواب دیکھتے ہوئے گزرے۔ وہ دن کتنے بے فکر تھے، ہمیں کیا معلوم تھا کہ ایک دن اپنے ہی بچپن کے ساتھی کی موت کی خبر سن کر انہی دنوں کو یاد کرتے ہوئے آنکھیں نم ہوں گی۔ عاطف کا تعلق ایک کاروباری خاندان سے تھا۔ آخری ملاقات میں وہ اپنے کاروبار اور مستقبل کے منصوبوں میں مصروف ایک عام نوجوان تھا۔

عادل رشید کے ساتھ میرا تعلق اس سے بھی زیادہ قریبی تھا۔ وہ ہمارا پڑوسی تھا۔ ہم نے ایک ساتھ بچپن گزارا، کھیلوں اور سماجی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ وہ انتہائی ملنسار، ہنس مکھ، ہمدرد اور مہمان نواز انسان تھا۔

گزشتہ ماہ جب میں راولاکوٹ گیا تو رات کے آخری پہر منگ موڑ میں کئی گھنٹے عادل اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا رہا۔ وہی ہنسی مذاق، وہی بے تکلفی اور وہی اپنائیت۔ مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ عادل کے ساتھ میری آخری نشست ہوگی۔ آج اس کی شہادت کی خبر سن کر وہ پوری رات، اس کی باتیں اور مسکراتا چہرہ بار بار ذہن میں آتا رہا۔ بعض ملاقاتوں کی اہمیت انسان کو اس وقت سمجھ آتی ہے جب دوبارہ ملنے کا امکان ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔

عادل اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کے والد ایک محنت کش انسان ہیں اور شفٹ و اسپیشل پرمٹ پر کیری ڈبہ چلاتے ہیں۔ عادل کچھ عرصہ بیرون ملک رہنے کے بعد چند سال قبل واپس آیا تھا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی اس کی شادی ہوئی تھی۔ ابھی تو زندگی کا نیا سفر شروع ہوا تھا، ابھی تو اس نے اپنے گھر اور خاندان کے لیے خواب دیکھنے تھے۔ والدین کی امیدیں اور شریکِ حیات کے ارمان اس نوجوان سے وابستہ تھے، مگر وہ سب کچھ ادھورا چھوڑ گیا۔

میں اپنی ذاتی واقفیت اور برسوں کے تعلق کی بنیاد پر یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق عاطف اور عادل عام شہری تھے۔ میں نے انہیں ہمیشہ سماجی زندگی میں مصروف، اپنے خاندانوں اور معاشرے سے جڑے ہوئے دیکھا۔ میری واقفیت میں ان کی کوئی مسلح یا دہشت گردانہ شناخت نہیں تھی۔ ان کے بارے میں کسی بھی دعوے کا فیصلہ شفاف تحقیقات اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

آزاد کشمیر کے حالات اور انسانی جانوں کا سوال؟

گزشتہ پانچ ماہ سے آزاد کشمیر، خصوصاً راولاکوٹ اور پونچھ کے حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، وہ اب کسی ایک خاندان، سیاسی جماعت یا فریق کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ پورے معاشرے کا المیہ بن چکا ہے۔

ایک طرف ریاستی اتھارٹیز اپنی رٹ اور عمل داری کی بات کر رہی ہیں، دوسری جانب شہری اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ سویلین اموات کی تعداد 95 سے تجاوز کرنے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکاروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موجود ہیں۔ یہ تمام واقعات انسانی جانوں کے ضیاع کی ایک دردناک تصویر پیش کرتے ہیں۔

ریاست اور شہریوں کا تعلق محض اختیار اور اطاعت کا نہیں، بلکہ اعتماد، تحفظ، انصاف اور ذمہ داری کا بھی ہوتا ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں اور احتجاج و اختلاف کے معاملات کو تحمل سے دیکھیں۔ اسی طرح احتجاج کرنے والوں اور ان کی قیادت کو بھی انسانی جانوں، امن عامہ اور معاشرتی زندگی کے تحفظ کو اپنی جدوجہد کا بنیادی اصول بنانا چاہیے۔

یہ وقت ایک دوسرے کو شکست دینے یا اپنی برتری ثابت کرنے کا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے کا ہے۔ اختلافات اور مطالبات کا حل طاقت یا ضد میں نہیں، بلکہ مکالمے، سیاسی تدبر اور سنجیدہ مذاکرات میں ہے۔ کوئی بھی ایسا راستہ اختیار نہیں ہونا چاہیے جس کی قیمت عام شہری اپنے بچوں، بھائیوں اور عزیزوں کی لاشوں کی صورت میں ادا کریں۔

تاریخ اپنا فیصلہ ضرور سنائے گی۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ کہاں غلطیاں ہوئیں اور کن فیصلوں نے حالات کو اس مقام تک پہنچایا، لیکن تاریخ جب اپنا فیصلہ سنائے گی تو عاطف واپس نہیں آئے گا، عادل اپنے گھر کا دروازہ نہیں کھولے گا، اس کے والد کو ان کا اکلوتا بیٹا نہیں ملے گا اور اس کی شریکِ حیات کو اپنا ہم سفر واپس نہیں ملے گا۔

سیاسی مؤقف بدل سکتے ہیں، فیصلے واپس لیے جا سکتے ہیں اور تنازعات مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں، مگر مرنے والے کبھی واپس نہیں آتے۔

عاطف اور عادل! تم دونوں کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔ ایک ہی کلاس روم، اسکول گراؤنڈ، محلے کی محفلیں اور منگ موڑ کی وہ آخری رات اب ہمیشہ کے لیے ہمارے حافظے کا حصہ ہیں۔

آج راولاکوٹ کی مٹی میں میرے لڑکپن کے دو ساتھی سو گئے۔ یہ صرف دو جنازے نہیں، بلکہ دو خاندانوں کے خوابوں، دوستیوں اور ادھوری خواہشوں کا ماتم ہے۔

اللہ تعالیٰ تم دونوں کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور اہل خانہ کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

اش! تم دونوں آج بھی ہمارے درمیان ہوتے۔

کسی کے گھر کا چراغ بجھا کر کیا ملا تم کو
ندھیرا تو آخرکار پورے شہر میں پھیلے گا۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *