Input your search keywords and press Enter.

جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے : فاروق عبداللہ

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کی جماعت علاقے کی خصوصی حیثیت سے متعلق دفعہ 370 اور 35A اور ریاستی درجے کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ذرائع کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں نیشنل کانفرنس کے ارکانِ اسمبلی کے ایک گروپ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں لے جانے کے عزم کا اظہارکیا۔

فاروق عبداللہ نے کہاکہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ دفعہ 370 اور دفعہ 35A کی بحالی کے لیے بھی ہماری لڑائی جاری رہے گی اور ان شاءاللہ ہم یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لے جائیں گے۔

نیشنل کانفرنس نے 2024ءکے اسمبلی انتخابات کے منشور میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اور ریاستی درجے کی بحالی کو اپنے اہم وعدوں میں شامل کیا تھا۔ پارٹی کے اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے کے بعدوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں نیشنل کانفرنس کی حکومت نے اکتوبر 2024ءمیں اقتدار سنبھالا تھا۔

فاروق عبداللہ نے پارٹی میں ممکنہ تقسیم کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ نیشنل کانفرنس متحد ہے اور اسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے ارکانِ اسمبلی سے ملاقات کی اور ان کے تحفظات غور سے سنے۔ انہوں نے ان کے اٹھائے گئے مسائل کو جائز قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ انہیں حل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اقدامات فوری طور پر کیے جائیں گے جبکہ دیگر پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔

یہ ملاقات نیشنل کانفرنس کے بعض ارکانِ اسمبلی کی جانب سے پارٹی اور حکومت کی کارکردگی پر عدم اطمینان کی اطلاعات کے بعد ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 16 ارکانِ اسمبلی نے پارٹی قیادت سے ملاقات کی درخواست کی تھی جس کے بعد حکمران جماعت کے اندرونی اختلافات سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *