سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر اور جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کشمیری شال فروشوں کو شمالی ہند کی ریاستوں میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے اور ہراساں کئے جانے کو نہ صرف بدقسمتی سے تعبیر کیا بلکہ اس عمل کو “نازی جرمنی” کی طرز پر جلد ختم ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا۔ فاروق عبداللہ نے سرینگر میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح نازی جرمنی کا خاتمہ ہوا، اسی طرح یہاں بھی “کٹرپنتی” (شدت پسندی) کا خاتمہ ہوگا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفوں کے دوران ہریانہ اور ہماچل پردیش کے مختلف علاقوں میں کشمیری شال فروشوں کو ہراساں کیے جانے کے کئی واقعات رونما ہوئے وہیں بعض کشمیریوں کا زد و کوب بھی کیا گیا۔
جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے ان ریاستوں کے حکام سے رابطہ قائم کئے جانے، کشمیریوں کے تحفظ کی ضمانت دئے جانے اور متعلقہ ریاستوں کی پولیس کی جانب سے کارروائیاں کیے جانے کے بعد بھی اس طرح کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ میڈیا نمائندوں کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ مشکل وقت سے نکلنے کے لئے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات بہت ضروری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’’آنے والا وقت بہتر ہوگا اور لوگوں کو مثبت سوچ رکھنی چاہیئے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ سفارتی قدم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوستیاں مضبوط ہوں تو خطہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔
